ZNZ Library PK – Pakistan's premium digital hub for Urdu literature. Discover a vast collection of Urdu novels, romantic sagas, and episodic masterpieces. From trending monthly digests to timeless literary classics, we provide a seamless reading experience for every book lover. Read, dive, and explore the world of stories with us!

Breaking

Saturday, May 9, 2026

Ehsaas Ke Dareechay By Sana Zafar Complete - ZNZ LIBRARY PK

Ehsaas Ke Dareechay By Sana Zafar Complete - ZNZ LIBRARY PK 



Ehsaas Ke Dareechay By Sana Zafar Complete - ZNZ LIBRARY PK 


” مس تنوینہ میں آپ کا ملازم نہیں ہوں جو بیٹھا آپ کا انتظار کرتار ہوں ” اس کا سخت لہجہ غصے سے بھر پور تھا۔

سر میں یہ ۔۔ وہ ۔۔ فائل “۔ وہ لڑکھڑا گئی۔

“شٹ اپ”۔ اس نے کہا اور ہاتھ میں پکڑا کاغذ اس کی طرف اچھال دیا۔

” یہ لیٹر آپ نے ٹائپ کیا ہے ؟”

نہیں سر۔ تانیہ نے کیا ہے “۔ وہ سمجھتے ہوئے انداز میں بولی۔ ” لے جائیں اسے اور اچھی طرح چیک کر کے لائیں میرے پاس “۔ سریہ فائل؟” اس نے سجے ہوئے انداز میں پوچھا۔ میرے سر میں مارو اسے “۔ وہ چپ کھڑی رہی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ چلی جائے یا فائل کھول کے اس کے سامنے رکھ دے۔

✦✧✦⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯⋯✦✧✦

“آپ نے یہاں آنے کی زحمت کیوں کی مس تنوینہ ؟” انتہائی رکھائی سے کہا تو وہ جواب کے لیے لفظ ڈھونڈنے لگی لیکن وہ پھر بول اٹھا۔

“آئی ایم سوری نہ تو اب آپ کے لیے کوئی سیٹ خالی ہے اور نہ ہی اس کمپنی کو اب آپ کی ضرورت ہے۔”

“آئی ایم سوری سر میری مجبوری تھی کہ آپ کو اطلاع نہ کر سکی ۔”

“مجبوری عیاشیوں اور آوارہ گردیوں کو آپ مجبوری کا نام دیتی ہیں ۔”

وہ جو اس وقت سے اپنا غصہ کنٹرول کیے بیٹھا تھا ایکدم بے قابو ہو گیا۔

“آئی ایم سوری میں تنوینہ ہماری کمپنی کو با کردار ورکرز کی ضرورت ہے۔ آپ جیسی مردوں کے ساتھ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے ہوٹلنگ کرنے اور شاپنگ کرنے والی لڑکیوں کی نہیں ۔”

اس کے لہجے میں حقارت اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اس کی زبان سے لفظ نہیں شعلے نکل رہے تھے جنھوں نے اسے سرتا پاؤں جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ کئی لمحوں تک تو حیرت و صدمے سے اس کی آواز گنگ ہوئی وہ حیرت و بے یقینی ہے اس کو تکے گئی۔


کچھ دیر بعد ہوش و حواس کی دنیا میں آئی اور سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی۔ ذلت و توہین کے احساس اور غم و غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور جسم کا سارا خون چہرے پر جمع ہو گیا۔

“مسٹر ارسل منصور۔” وہ بولی تو اس کا لہجہ پھنکارتا ہوا تھا۔

“میں نے آج تک آپ کی ہر زیادتی کو برداشت کیا، ہر ذلت کو سہا اپنی ہر تذلیل پر خاموش رہی، لیکن میں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی میرے کردار پر کیچڑ اچھالے۔ میں اپنی کردارکشی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی ۔ افسوس صد افسوس مسٹر ارسل مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی گندی اور گھٹیا سوچ کے مالک ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کی ذہنیت اتنی پست ہے۔ رہی بات ملازمت کی آپ جیسے انسان کے ساتھ اب میں دو منٹ بھی رہنا گوارا نہیں کر سکتی ۔ آپ کا مجھ پر یہی بہت احسان عظیم ہے کہ آپ نے اتنا عرصہ مجھے برداشت کیا لیکن افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ میں نے آپ کو سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بہت بڑی۔”


اس نے انتہائی دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ایسے دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سے مڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ اور اپنے کمرے سے اپنا بیگ اور چادر اٹھائی اور چلی گئی۔

 

Ehsaas Ke Dareechay By Sana Zafar Complete - ZNZ LIBRARY PK 


"Miss Tanveena, I am not your employee who is sitting and waiting for you," his stern tone was full of anger.

In my head, this... that... file. "She staggered.

"Shut up." He said and threw the paper he was holding at her.

"Did you type this letter?"

No, sir. What did Tania do?" He spoke in an understanding manner. "Take it and check it carefully and bring it to me." "Sir, the file?" He asked in a polite manner. "Hit it in my head." She stood still, not understanding whether to leave or open the file and place it in front of him.


"Why did you bother to come here, Miss Tanveena?" He said with extreme restraint, she started searching for words to answer, but he spoke again.

"I am sorry, there is no seat available for you now, nor does this company need you now."

“I am sorry sir, I was forced to not inform you.”

“You call forced extravagance and wandering as forced.”

He who had been controlling his anger since then suddenly lost control.

“I am sorry, our company needs workers with character. Not girls like you who travel in big cars with men, stay in hotels and go shopping.”

Her tone was full of contempt and hatred. Not words, but flames were coming out of her mouth that burned her head and feet to ashes. For several moments, her voice was mute due to surprise and shock. That surprise and uncertainty haunted her.


After some time, she came to her senses and was able to think and understand. Her fists clenched with a sense of humiliation and insult, as well as grief and anger, and all the blood in her body gathered on her face.

“Mr. Arsal Mansoor.” When she spoke, her tone was piercing.

“I have tolerated every injustice you have done me, endured every humiliation and remained silent about every humiliation I have been subjected to, but I can never tolerate anyone casting mud on my character. I can never forgive the person who has defamed my character. Alas, alas, Mr. Arsal, I did not know that you had such dirty and vile thoughts. I could not even imagine that your mentality was so low. As for the job, I cannot bear to spend even two minutes with a person like you. Your great kindness to me is that you have tolerated me for so long, but I am sorry that I have made a huge mistake in understanding you. A huge one.”


She looked at him with a mixed expression of extreme sadness and anger and then turned around abruptly and walked out with quick steps. And picked up her bag and sheet from her room and left...


Ehsaas Ke Dareechay By Sana Zafar Complete - ZNZ LIBRARY PK 


کہانی ایک مغرور،سرد مزاج اور بااختیار بزنس مین کے گرد گھومتی ہے جو اپنے دفتر میں ہر چیز کو اپنے اصولوں کے مطابق چلانے کا عادی ہے 😌🔥۔جب ایک باہمت،خوددار اور مضبوط ارادوں والی لڑکی اس کی کمپنی میں ملازمت اختیار کرتی ہے تو دونوں کے درمیان شروع ہونے والی تکرار رفتہ رفتہ جذباتی کشمکش میں بدل جاتی ہے 💼⚡۔وہ ہر بات پر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں،انا اور خودداری ان کے درمیان دیوار بن جاتی ہے 🚫💔 مگر دل کے دریچے آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں 💔➡️💖۔غلط فہمیاں،تلخ جملے اور روزمرہ کی نوک جھونک اس رشتے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے 😣 لیکن انہی لمحوں میں ایک ان کہی کشش بھی جنم لیتی ہے ✨ جسے دونوں تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں 😶‍🌫️۔طاقت اور جذبات کی اس کشمکش میں محبت کب اپنی جگہ بنا لیتی ہے،یہی اس کہانی کا اصل حسن ہے 🌹✨۔“احساس کے دریچے” ایک ایسی آفس رومانوی داستان ہے جہاں غرور اور محبت آمنے سامنے آتے ہیں 🤍⚔️ اور آخرکار دل کی آواز انا پر غالب آ جاتی ہے 💞📖۔



” مس تنوینہ میں آپ کا ملازم نہیں ہوں جو بیٹھا آپ کا انتظار کرتار ہوں ” اس کا سخت لہجہ غصے سے بھر پور تھا۔

سر میں یہ ۔۔ وہ ۔۔ فائل “۔ وہ لڑکھڑا گئی۔

“شٹ اپ”۔ اس نے کہا اور ہاتھ میں پکڑا کاغذ اس کی طرف اچھال دیا۔

” یہ لیٹر آپ نے ٹائپ کیا ہے ؟”

نہیں سر۔ تانیہ نے کیا ہے “۔ وہ سمجھتے ہوئے انداز میں بولی۔ ” لے جائیں اسے اور اچھی طرح چیک کر کے لائیں میرے پاس “۔ سریہ فائل؟” اس نے سجے ہوئے انداز میں پوچھا۔ میرے سر میں مارو اسے “۔ وہ چپ کھڑی رہی اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ چلی جائے یا فائل کھول کے اس کے سامنے رکھ دے۔




“آپ نے یہاں آنے کی زحمت کیوں کی مس تنوینہ ؟” انتہائی رکھائی سے کہا تو وہ جواب کے لیے لفظ ڈھونڈنے لگی لیکن وہ پھر بول اٹھا۔

“آئی ایم سوری نہ تو اب آپ کے لیے کوئی سیٹ خالی ہے اور نہ ہی اس کمپنی کو اب آپ کی ضرورت ہے۔”

“آئی ایم سوری سر میری مجبوری تھی کہ آپ کو اطلاع نہ کر سکی ۔”

“مجبوری عیاشیوں اور آوارہ گردیوں کو آپ مجبوری کا نام دیتی ہیں ۔”

وہ جو اس وقت سے اپنا غصہ کنٹرول کیے بیٹھا تھا ایکدم بے قابو ہو گیا۔

“آئی ایم سوری میں تنوینہ ہماری کمپنی کو با کردار ورکرز کی ضرورت ہے۔ آپ جیسی مردوں کے ساتھ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے ہوٹلنگ کرنے اور شاپنگ کرنے والی لڑکیوں کی نہیں ۔”

اس کے لہجے میں حقارت اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اس کی زبان سے لفظ نہیں شعلے نکل رہے تھے جنھوں نے اسے سرتا پاؤں جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ کئی لمحوں تک تو حیرت و صدمے سے اس کی آواز گنگ ہوئی وہ حیرت و بے یقینی ہے اس کو تکے گئی۔


کچھ دیر بعد ہوش و حواس کی دنیا میں آئی اور سوچنے سمجھنے کے قابل ہوئی۔ ذلت و توہین کے احساس اور غم و غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں اور جسم کا سارا خون چہرے پر جمع ہو گیا۔

“مسٹر ارسل منصور۔” وہ بولی تو اس کا لہجہ پھنکارتا ہوا تھا۔

“میں نے آج تک آپ کی ہر زیادتی کو برداشت کیا، ہر ذلت کو سہا اپنی ہر تذلیل پر خاموش رہی، لیکن میں یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ کوئی میرے کردار پر کیچڑ اچھالے۔ میں اپنی کردارکشی کرنے والے کو کبھی معاف نہیں کر سکتی ۔ افسوس صد افسوس مسٹر ارسل مجھے نہیں معلوم تھا کہ آپ اتنی گندی اور گھٹیا سوچ کے مالک ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کی ذہنیت اتنی پست ہے۔ رہی بات ملازمت کی آپ جیسے انسان کے ساتھ اب میں دو منٹ بھی رہنا گوارا نہیں کر سکتی ۔ آپ کا مجھ پر یہی بہت احسان عظیم ہے کہ آپ نے اتنا عرصہ مجھے برداشت کیا لیکن افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ میں نے آپ کو سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بہت بڑی۔”


اس نے انتہائی دکھ اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ ایسے دیکھا اور پھر ایک جھٹکے سے مڑی اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر نکل گئی۔ اور اپنے کمرے سے اپنا بیگ اور چادر اٹھائی اور چلی گئی۔۔۔



Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar is a effective Urdu office sentiment with a discourteous boss, solid courageous woman, and passionate turns. Studied & download in PDF now.



Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar

Story Title: Ehsas Ke Dareeche

Writer Title: Sana Zafar

Genre: Office based, Discourteous legend, Solid courageous woman, Boss saint, Inconsiderate legend, Sentimental novel, Wealthy legend, Destitute heroine.


Summary Of Ehsas Ke Dareeche

Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar is an locks in Urdu novel that unfurls a effective office sentiment between a prevailing boss and a intrepid, strong-willed courageous woman. Set in a corporate environment, the story is filled with seriously feelings, errors, and verifiable chemistry that keeps perusers snared till the exceptionally end.


The legend, a cold and discourteous businessman, is utilized to being in control. When the courageous woman enters his life as a sure and free representative, their visit clashes start a storm of feelings. Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar delightfully depicts how two solid identities battle between pride and sentiments, frequently mixing up adore for conflict.


As mistaken assumptions develop, the enthusiastic pressure develops. But underneath the surface of their every day contentions lies a developing fascination that not one or the other can deny. Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar captures the pith of office sentiment where control elements and individual sentiments collide in the most unforeseen ways.


What makes this novel stand out is the heroine’s quality she doesn’t hold up to be protected; she faces each challenge with elegance and self regard. Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar is not fair almost adore, but around the enthusiastic travel that leads to understanding, recuperating, and extreme happiness.


With a fulfilling upbeat finishing, Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar demonstrates that cherish can bloom indeed in the most complicated circumstances. The boss who once appeared coldhearted turns into the man who learns to esteem sentiments over ego.


You can perused and download Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar in PDF arrange from Baazar of Books, your trusted source for high-quality Urdu books. Don’t miss the chance to jump into the holding world of Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar today!



Ehsas Ke Dareeche by Sana Zafar is a effective Urdu office sentiment with a inconsiderate boss, solid courageous woman, and enthusiastic turns. Examined & download in PDF now.



Writer Introduction

Sana Zafar is a well known Urdu process author known for her enthusiastic and locks in stories. Her books regularly investigate subjects of adore, errors, and solid female characters, making her a favorite among Urdu fiction perusers.





PDF • 12.5 MB 68+ Pages Urdu
0% 15s

No comments:

Post a Comment