ZNZ Library PK – Pakistan's premium digital hub for Urdu literature. Discover a vast collection of Urdu novels, romantic sagas, and episodic masterpieces. From trending monthly digests to timeless literary classics, we provide a seamless reading experience for every book lover. Read, dive, and explore the world of stories with us!

Breaking

📚 ZNZ Library

Novel ka naam likhein aur search karein

Powered by znzlibrary.pk

Friday, May 22, 2026

Zindagi Kay Tahqub Main By Ateeqa Ayub Complete - ZNZ LIBRARY PK

Zindagi Kay Tahqub Main By Ateeqa Ayub Complete -  ZNZ LIBRARY PK


زندگی تیرے تعاقب میں 


This novel is being published on this website with the permission of the writer.


Download Zindagi Kay Tahqub Primary By Ateeqa Ayub Urdu Novel Complete Pdf , Urdu Books list, Full Heartfelt Strong Urdu Books Rundown , Best Urdu Books list. Additionally, Download Urdu Books Rundown PDF by Journalists , Urdu Books Online Read and Download with Sorting Base. All Urdu Books Zone is Best stage for all Urdu Books perusers. Here, We gives Free all Urdu Books Total PDFs


Zindagi Tery Taaqub mein by Ateeqa Ayub, a renowned review essayist who composed heartfelt, tension, and exciting books


The connection is accessible underneath to download in PDF structure


Books not entirely settled to give an astounding stage to online entertainment author to exhibit their composing expertise to the rest of the world. We invite all author with our good natures to test their ability.


We welcome journalists to work with us and be a piece of our group to impart your work to the rest of the world. So to increase the value of Urdu writing, we urge you to join our group and gain appreciation around the world.


Zindagi Kay Tahqub Primary Novel by Ateeqa Ayub is accessible on the web! Click the connection to peruse the novel or download the full PDF adaptation for nothing.



کراچی سٹی ہسپتال میں ہر طرف خاموشی کا راج تھا۔ عید کا دن تھا، صرف کچھ مستقل مریض تھے جو عید والے دن بھی ہسپتال میں تھے، باقی سب مریض گھر چلے گئے تھے۔ چودہ منزلہ اس فلک بوس عمارت میں چند ہی ڈاکٹرز آن ڈیوٹی تھے، عید کی چھٹیوں پر تھے۔ کامن روم میں اس وقت ڈاکٹر فارحہ اور ڈاکٹر فاطمہ بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی ڈاکٹر وہاں نہیں تھا۔


"کیا یار! عید کے دن بھی ہم ڈیوٹی پر ہیں۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے" فارحہ نے مایوسی سے سر ٹکاتے ہوئے کہا۔ البتہ فاطمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ دونوں اپنا ہاؤس جاب مکمل کر رہی تھیں سٹی ہسپتال میں، کراچی کے حالات ایسے تھے کہ ہر وقت کسی نہ کسی ایمرجنسی کا خطرہ رہتا تھا، سو اب سب ڈاکٹرز کو سمجھنے کی عادت ہو گئی تھی۔ کوئی نہ کوئی آن ڈیوٹی ہوتا تھا۔


"فاطمہ۔" فارحہ کے پکارنے پر وہ چونکی۔


"جی۔"


"کیا سوچ رہی ہو؟" فارحہ نے بطور اس کی چمکتی آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں دیکھیں۔


"کچھ نہیں، بس یہی کا سوچ رہی تھی۔ پتا نہیں کچھ ہونے والا ہے۔" فاطمہ کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔ تب ہی پولیس گاڑیوں اور ایمبولینس کے تیز بجتے سائرن پر وہ بوکھلا کر کھڑی ہو گئیں۔ سائرن کی آواز سے پورا ہسپتال گونج رہا تھا۔


ان دونوں نے والہانہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا پھر تیزی سے کھڑکی کی طرف بڑھیں۔ وہ سیکنڈ فلور پر تھیں کھڑکی کے باہر مناظر دل دہلانے کو کافی تھے۔ ہسپتال کے احاطے میں پولیس گاڑیوں اور ایمبولینس کا ہجوم تھا۔ مریضوں کو جلدی جلدی اسٹریچر پر ڈالا جا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتیں کامن روم کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور سینئر ڈاکٹر وہاب اندر داخل ہوئے۔


"ڈاکٹر فارحہ! فاطمہ! جلدی آپریشن روم میں آئیے" ان کا لہجہ تیز اور تحکمی تھا۔


"سر کیا ہوا؟" فارحہ نے پوچھا۔


"ایمرجنسی ہوئی ہے، شہر میں بدترین ٹارگٹ کلنگ ہوئی ہے، بہت لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ سنا ہے ایک مجرم بھی پکڑا گیا ہے لیکن شدید زخمی حالت میں ہے، ہر صورت بچانا ہے۔ جلدی آؤ" وہ کہہ کر رکے نہیں اور باہر نکل گئے۔



"یہ بلیک ایگل کون ہے؟" فاطمہ نے نرس سے فارحہ کو دیکھا جو ابھی تک بے یقینی کی حالت میں کھڑی تھی۔


"بلیک ایگل۔۔۔ تم نہیں جانتیں؟" فارحہ نے سبز لباس اور سبز نقاب پہنتے ہوئے کہا۔


"نہیں۔" فاطمہ بھی تیزی سے آپریشن تھیٹر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔


"یہ ایک انتہائی خطرناک، شوٹر اور تیز مجرم ہے۔ پولیس کب سے اس کی تلاش میں ہے، آج پکڑا گیا ہے۔"


فارحہ کے بتانے پر اس وقت وہ زیادہ اظہار نہیں کر سکتی تھی سو جلدی جلدی فارحہ کے پیچھے بھاگی۔ ہر طرف ہنگامہ خیز صورتحال تھی۔ سارے آن ڈیوٹی ڈاکٹرز زخمیوں کا علاج کر رہے تھے۔ آپریشن روم کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ دونوں تیزی سے آپریشن روم میں داخل ہوئیں۔ جمال، ڈاکٹر وہاب اسٹریچر پر نیم بے ہوش وجود پر جھکے ہوئے تھے، تیز روشنیوں تلے لیٹا ہوا وہ شخص بالکل ساکت تھا۔


"تین گولیاں لگی ہیں، آپریشن کرنا ہو گا، بچنے کے چانسز بہت کم ہیں، اتنی آسانی سے اسے نہیں مرنے دینا" ڈاکٹر وہاب ان دونوں سے مخاطب ہوئے وہ انٹینسو کیئر میں داخل ہو گیا تھا۔ آپریشن شروع ہو چکا تھا، ڈاکٹر وہاب اور فارحہ کے ہاتھ بہت تیزی سے چل رہے تھے البتہ فاطمہ کمبل سی کھڑی اس لیٹے ہوئے وجود کو دیکھ رہی تھی۔ خوف سے لرزتے قد کی وجہ سے پاؤں بیڈ سے باہر نکل رہے تھے، چہرے پر جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے مگر اس کے باوجود چہرے پر بلا کا رعب اور وحشت تھی۔


فاطمہ خون رو کو ڈاکٹر وہاب کے چلانے پر وہ اپنے حواسوں میں آئی اور تیزی سے کاٹن رکھنے لگی۔ گھنٹہ منٹ بعد جب آپریشن ابھی جاری تھا اس کے بے بس وجود کو ایک جھٹکا لگا اور تھوڑی سی حرکت ہوئی۔ اس کے بے ہوش وجود میں حرکت ہو رہی تھی، نقشے پھول اور پچک رہے تھے۔


"یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے، میں نے اسے خود تین منتوں کے لیے انجکشن دیا ہے، یہ گریہ کیسے کیسے ہوش میں آ سکتا ہے۔" حیرت کی شدت سے ڈاکٹر وہاب کی آنکھیں پھٹ گئیں، حرکت تیز ہو چکی تھی۔


"انٹینسو، ہسپتال جلدی" ڈاکٹر وہاب کے پکارنے پر تیزی سے انجکشن بھرنے لگا۔


"یہ مریض انتہائی خطرناک ہو گا۔ اس کا بچنا مشکل ہے۔" پہلی بار فاطمہ نے زبان کھولی۔


"اس سے ہمیں کوئی چارہ نہیں بچ گیا تو خوش نصیب ہو گا۔" وہ ابھی زخموں پر ٹانکے لگاتے ہوئے بولے۔ حرکت بند ہوئی تھی، وہ پھر سے بے ہوش ہو چکا تھا۔ پھر تین گھنٹوں کے طویل آپریشن کے بعد معجزاتی طور پر وہ بچ گیا تھا، تینوں کو لائف سپورٹ سے نکال دی گئی تھی۔


"حیرت انگیز قوت مدافعت کا مالک ہے یہ شخص، آج سے پہلے کسی میں اتنی دلیر نہیں دیکھی" ڈاکٹر وہاب نقاب اتارتے ہوئے مصلحانہ لہجے میں بولے۔


"خیر! ڈاکٹر فاطمہ، چکر لگاتی رہیے گا، بس مزید آدھے گھنٹے تک اسے ہوش آ جائے گا۔ ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔"


اب بھی حیران تھی۔


"ایسے ڈھیٹ اور بے حس لوگوں پر کوئی اثر ہوتا بھی نہیں، تمہیں پتا ہے اپنے باپ کو بھی اس نے قتل کیا ہے، ایسے لوگوں کے پاس نہ دل ہوتا ہے نہ جذبات، ان پر نہ گولیاں اثر کرتی ہیں نہ دوائیاں" فارحہ کا لہجہ نفرت سے بھرپور تھا، اور فاطمہ تو بس "باپ کو خود قتل کیا" یہی ایک ٹک سن سکی۔


"کیا؟ کیا واقعی؟ تمہیں کیسے پتا؟" وہ حیران تھی فارحہ کی انفارمیشن پر۔


"کس دنیا میں رہتی ہو تم فاطمہ، کچھ ارد گرد کی بھی خبر لیا کرو۔ تین سال پہلے، سین اور باپ کو قتل کرنے کے جرم میں اسے قید ہوئی تھی مگر یہ جیل سے بھاگ گیا، جن کے لیے یہ کام کر رہا ہے" ماضی لوگوں نے وہ وہاں سے فرار کروا دیا تھا۔ ان تین سالوں میں اس نے کئی جرائم کیے ہیں۔ کتنے بینک لوٹے ہیں، کتنے لوگوں کو قتل کیا ہے، گنا ہی نہیں جا سکتا، ہر جگہ اپنا نشان چھوڑتا ہے 'بلیک ایگل'۔ وہ بلیک ایگل جس کا نیٹ ورک اس کا نیٹورک ہے۔ اصل نام تو کچھ اور ہے، بلیک ایگل کے نام سے مشہور ہے" فارحہ نے اب تفصیل سے بتایا اور فاطمہ گہرے غصے میں آ چکی تھی۔


"اس کو تو مر ہی جانا چاہیے تھا، کیوں بچایا ہم نے؟" وہ نفرت سے بولی۔


"مگر کیوں مرتا، توبہ، بہت آسان موت ہوتی، اس کی زندگی کتنے پریس نے زور و شور سے بلایا، پھر وہ دونوں۔۔۔۔"


"عائشہ" اگلوں نے زہرہ نے پوچھا۔ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ بیچ میں میں نے اتنی ہی سنی تھی گھر کے کام سمیٹ کے جاتی تھی، تاکہ زہیرو کو زیادہ کام نہ کرنا پڑے، حالانکہ کام والی بھی رکھی ہوئی تھی مگر زہرا پھر بھی چستی میں ایک دن پکے، شوہر رہتی۔ اور "ممی" کو چاہنے والے دن ہی رہتی تھی، شادی سے پہلے سارا گھر اس نے سنبھال لیا تھا ماں کی وفات کے بعد، پھر شادی کے بعد زہرا جیسے میں ایک چکر لگا گئی۔


"ابا کہاں ہیں؟" اس نے پوچھا۔


"بیٹھک میں ہیں۔" زہرا نے جواب دیا۔


"عائشہ کرلو، کتنے کمزور ہو گئے ہو، ٹھیک سے کھاتے پیتے نہیں ہو ناں؟" اس نے اب فخر کو دیکھا، وہ مسکرایا۔


"میں ٹھیک سے کھاتا ہوں، زہرو تمہاری نظر کمزور ہو گئی ہے۔ عدیل بھائی سے کہہ کے چیک کروانا" پھر ہنسنے لگا، جیسے بالکل فٹ اور ٹھیک نظر آؤں گا وہ، "وہ ہیں ہر گندے میں، کسی پر بھی ٹھیک نہ لگا۔"


"ہاں اڑواڑو اقاق اور تو کوئی کام نہیں ہے۔" زہرو نے منہ بنایا، وہ ہنس دیا۔


"میری چھوٹی نے ٹاپ کرنا ہے اس بار؟" اس نے اب زہیو کے سر پر چت چلائی، جوتے لگانے میں مصروف تھی۔


"ان شاء اللہ" وہ بھی پر عزم لہجے میں بولی، دونوں ہنس پڑے۔


"سعد کہاں ہے؟" اب کے بھائی نے پوچھا۔


"سو رہا ہے، ابھی تو نہی جگانا، پھر تنگ کرے گا، کوئی کام نہیں کرنے دے گا" زہرو نے منع کیا، جیسے کو۔۔۔


Zindagi kay tahqub fundamental by Ateeqa Ayub is a well known social


heartfelt Urdu novel.It was distributed in Aanchal Overview.


Ateeqa Ayub is well known author who composed numerous books in


Shuaa Summary , Khwateen Review, Kiran Condensation, Aanchal Overview.


She is exceptionally well known in females on account of her one of a kind


composing style. She composed numerous afsana ,novelts and books in


different overview and she has a colossal fans following who


frantically sits tight for her books. Zindagi kay tahqub fundamental


is accessible to online reading.Click the connections beneath to


download free web-based books, free internet perusing this book.


For improved outcome click on the picture.


NOVELS INFORMATION ARE THE GIVEN BELOW

11 Pages · 2024 · 3.52 MB · Urdu

No comments:

Post a Comment